کھٹمنڈو،20دسمبر(آئی این ایس انڈیا) نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے اتوار کے روز اپنے حریفوں کو حیرت میں ڈالتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی سفارش کی اور صدر کی منظوری بھی حاصل کرلی۔ صدر نے ملک میں اپریل مئی میں وسط مدتی عام انتخابات کرانے کا اعلان کردیا ہے۔
یہ متنازعہ اقدام اولی اور سابق وزیر اعظم پشپا کمال دہل پراچنڈا کے مابین اقتدار کے لئے دیرینہ جدوجہد کے درمیان آیا ہے۔ صدر ودیا دیوی بھنڈاری نے اتوار کے روز وزیر اعظم اولی کی سفارش پر پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا اور اپریل مئی میں وسط مدتی عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل حکمران نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ایک سینئر ممبر نے بتایا تھا کہ اولی کی زیر صدارت کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں صدر کو ایوان نمائندگان تحلیل کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
راشٹرپتی بھون کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق صدر بھنڈاری نے پہلے مرحلے کے لئے وسط مدتی انتخابات 30 اپریل کو اور دوسرے مرحلے میں 10 مئی کو کرانے کا اعلان کیا۔ سال 2017 میں منتخبہ ایوان نمائندگان یا پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 275 ممبر ہوتے ہیں، ایوان بالا قومی اسمبلی ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب حکمران جماعت نیپال کمیونسٹ پارٹی (این سی پی) میں اندرونی تنازعات عروج پر پہنچ گئے۔ پارٹی کے دونوں دھڑوں کے مابین کئی مہینوں سے تصادم جاری ہے۔ جہاں ایک گروپ کی سربراہی 68 سالہ اولی کررہے ہیں، دوسرے گروہ کی سربراہی پارٹی کے ورکنگ صدر اور سابق وزیر اعظم پراچنڈا کررہے ہیں۔ حکمراں این سی پی کے ترجمان نارائن جی شریستھا نے اولی کے اس اقدام کو غیر جمہوری، آئین مخالف اور خود مختار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر تبادلہ خیال کے لئے حکمران جماعت اپنی اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس کرے گی۔ اوسی کے فیصلے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے این سی پی کے حکمران رہنما پراچنڈا کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔